Trending

این جی ٹی کے آرڈر پر سینکڑوں کروڑ کا فنڈ منظور، پہلی قسط 98 کروڑ موصول

فنڈ کی اتنی خطیر رقم شاذ و نادر ہی آتی ہے، عوام ٹھیکیداروں اور انتظامیہ سے متعلق بیدار رہے

مالیگاؤں (نامہ نگار) شہر میں کھلی بے ترتیب، گندی گٹروں کا پانی بڑی گٹروں کے ذریعے نالوں میں جاتا ہے اور یہی پانی موسم و گرنا ندی میں شامل ہو کر ڈیم کے ذخیرہ آب میں شامل ہو جاتا ہے۔ پھر گرنا ڈیم کے ذریعے یہی آلودہ پانی محکمہ آب رسانی کے ذریعے عوامی استعمال میں آتا ہے۔ ندی کے اطراف گندا پانی جمع ہونے سے فضائی و آبی آلودگی کا خطرہ رہتا ہے۔ اس بات کو لیکر این جی ٹی نے ایک آزادانہ سروے کیا اور حکومت کو اپنا احوال پیش کرتے ہوئے مالیگاؤں میں آبی و فضائی آلودگی دور کرنے کیلئے سینکڑوں روپئے کی خطیر رقم سے اس مسئلے سے نپٹنے کیلئے کام کاج کرنے کا حکم دیا جس پر مرکزی حکومت 50 فی صد، ریاستی حکومت 25  فی صد اور مقامی کارپوریشن 25 فی صد رقم ادا کریگی۔ گرنا اور موسم دونوں ندی کے دونوں کناروں پر گٹروں کے ذریعے آنے والے گندے پانی کو انڈر ڈرینیج طریقے سے دو مراکز پر جمع کرکے سیویج ٹریٹمینٹ پلانٹ کے ذریعے پانی سے گندگی الگ کرکے اس پانی کو ذراعت و آبپاشی کے لئے پگڈنڈی بنا کر کھیتوں تک پہنچانا نیز ندی کی صاف صفائی اور گندگی اٹھانا ان تمام کاموں کیلئے 98 کروڑ کی پہلی پیشکش حکومت کی جانب سے موصول ہو چکی ہے۔ آئندہ دنوں مزید 58 کروڑ فنڈ کاغذی مراحل میں ہے۔ حدواڑ کے علاقوں کو ملا کر اس کام کیلئے تقریباً 380 کروڑ کا تخمینہ طئے کیا گیا ہے۔ اس کام کیلئے ناسک کی ایک کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ جس میں کچھ مقامی ٹھیکیداروں کا بھی اشتراک ہے۔ چھوٹے موٹے فنڈ میں خرد برد تو یہاں عام بات ہے مگر اس طرح کے سینکڑوں روپئے کے فنڈ کام کاج کیلئے شاذ و نادر ہی فراہم ہوتے ہیں۔ اتنی بڑی رقم سے شہر میں بہتر طریقے سے کام کاج ہو سکے، شہر میں آلودگی اور گندگی کا مسئلہ ختم ہوسکے، ہمیں روز مرہ کے استعمال میں آنے والا پینے کا پانی صاف و شفاف مل سکے اس کے لئے اس رقم کا صحیح استعمال، اس پر توجہ اس کی نگرانی اور اس تعلق ے بیداری کی شدید فوری ضرورت ہے۔ اگر ماضی کی طرح اس کام میں بھی کچھ مخصوص مفاد پرست ٹھیکیدار سینڈیکیٹ ہوکر ناقص کولیٹی اور بدعنوانی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اتنی خطیر رقم بھی شہری مسائل کے لئے کار آمد ثابت نہیں ہو سکے گی۔ جہاں این جی ٹی کی وجہ سے سائزنگ، گٹی مشین اور رنگین بھٹیوں پر کاروائی ہوئی وہیں این جی ٹی کی وجہ سے سوچھتا ابھایان، سڑکوں کی درستی، اتی کرمن، بائیو مائننگ سمیت کئی طرح کے مسائل پر کارآمد کوشش ہوئی۔ اس فنڈ سے متعلق شہری ضروریات اور جسمانی صحت کے پیش نظر این جی ٹی نے تو اپنا رول ادا کردیا اب اس خطیر رقم سے ہونے والے کاموں کی نگرانی رکھ کر اسے ناقص کار کردگی سے بچانے کیلئے اس فنڈ میں چوطرفہ بندربانٹ نہ ہو اس کے لئے انتظامیہ، سیاسی نمائندے، ارباب اقتدار، اپوزیشن والے، سرکردہ افراد، سماجی تنظیمیں اور ادارے، ماہیتی ادھیکار لگا کر تیر مارنے والے، سوشل ورکرس، سماجی خدمتگار، سوشل میڈیا سے جڑے افراد اور میڈیا کے نمائندے اس فنڈ اور اس اہم کام کو لیکر نگرانی رکھیں۔ معلومات حاصل کریں۔ بازپرس کریں۔ توجہ دیں اور بیدار رہیں تاکہ سینکڑوں کروڑ کی یہ رقم بدعنوانی کا شکار نہ ہوتے ہوئے اصل مقصد کیلئے ایمانداری سے استعمال ہو سکے۔ شہریان بھی اس تعلق سے بیدار رہیں۔ وہیں ندی کے اطراف رہنے والے ساکنین بھی اس معاملے میں حساس، بیدار اور متوجہ رہیں۔ آنے والے دنوں میں ایگریمینٹ کی کاپی، سرکاری معلومات، ٹینڈر نوٹس کے اصول و ضوابط، رقم معیاد، رقبہ کوالیٹی اور کام کے معیار سے متعلق معلومات حاصل کرکے اسے عوامی سطح پر پیش کیا جائیگا۔ تاکہ اس معاملے سے عوام با خبر رہے۔ مزید تفصیلات آئندہ اشاعتوں میں شائع کی جائیگی۔ مذکورہ محکمہ کے شکایتی رابطہ نمبرس اور محکموں کے پتے عوامی معلومات و شکایت کیلئے شائع کئے جائیں گے۔ کچھ مخصوص افراد ذاتی مفاد کے لئے متحد ہوکر شہر کے ملائی والے ٹھیکے خاموشی سے حاصل کرکے بلا تشہیر کروڑوں روپیہ ہضم کر جارہے ہیں۔ ایسے ماسٹر مائنڈ افراد سے متعلق بھی معلومات لیکر ان کی ناقص کارکردگی و بدعنوانی بھی عوام کے سامنے لائی جائے گی۔ بیداری سے متعلق میڈیا بھی اس جانب مثبت رول ادا کرے۔


Related Articles

Back to top button
Don`t copy text!
Close