یا الہیٰ یہ ماجرا کیا ہے؟ مالیگاؤں میں کورونا مریضوں کی تعداد اچانک 600 سے 63 پر

مالیگاؤں (نامہ نگار) گزشتہ 3 دنوں پہلے شہر مالیگاؤں میں کورونا کی جو ہیبت تھی وہ شہریان نے نہ صرف دیکھا بلکہ اس سے ڈر کا ماحول بھی شہر میں رہا۔ روزانہ 70، 80 مریضوں کا اضافہ ہوتے ہوتے شہر میں کورونا مریضوں کی تعداد سرکاری طور پر تقریباً 600 کے آس پاس ہوگئی تھی۔ مگر گزشتہ 3 دنوں سے مریضوں کی تعداد میں تین روز قبل 9 مریضوں کا اضافہ، دو روز قبل 4 مریضوں کا اضافہ، گزشتہ کل 4 مریضوں کا اور آج صرف 2 مریضوں کا ہی اضافہ ہوا۔ پانچ سو سے زائد مریض 3 دنوں میں یکایک صحتیاب ہو کر ڈسچارج بھی کردیے گئے۔ شہر کے لئے یہ بہت خوش آئند بات ہے مگر سوچنے کا مقام یہ ہے کہ اچانک 3 دن میں ایسا کونسا علاج کا طریقہ اختیار کرلیا گیا کہ 3 دنوں میں ہی 5 سو سے زائد مریض صحتیاب ہو گئے۔ نئے مریضوں کی تعداد بھی اچانک کم ہوگئی۔ ادارہ سچ بات ابتداء سے ہی نجی اسپتالوں اور دواخانوں کے کھلوانے کی کوششیں کرتا رہا ہے جس کے مثبت نتائج سامنے نظر آرہے ہیں اس کے ساتھ ہی ہم نے گرین مالیگاؤں ڈرائیو عبداللہ ٹرسٹ اور ستیہ مالک لوک سیوا گروپ (اعجاز سر) کے ساتھ مل کر متعدد کورینٹاین سینٹرز کا دورہ کیا خاص طور پر مالدہ سینٹر کے مثبت منفی مریضوں سے ملے انکی ہر ممکن مدد کی انکی شکایات انتظامیہ تک حل کی تجاویز کے ساتھ پہنچانے کی کوشش کی، ہایڈروکسی کلوروکوین نامی دوا بد احتیاطی کے ساتھ دی جارہی تھی راست وزیر صحت سے اسکی شکایت کی، کچھ کورینٹاین سینٹرز میں مریضوں کی کاونسیلنگ وغیرہ کی ذمہ داری قانونی طور پر اپنے ہاتھوں میں لیے، نجی اسپتالوں میں سانس کے مریضوں کو نہیں لیا جا رہا تھا انتظامیہ سے مل کر اس مسںٔلے کو حل کروایا۔ کورونا کی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ابتدائی گاںیڈ لائنس اور سسٹم میں ہی بہت ساری کمیاں تھیں اور انہیں عمل میں لانا آسان نہیں تھا، سسٹم میں درستگی کے علاوہ دوسرا علاج نہیں تھا، اگر واقعی کوئی علاج تلاش کر لیا گیا تو مریضوں کے صحتیاب ہونے کا گراف تو بڑھنا چاہئے مگر کورونا کے مریضوں میں تعداد کی کمی کو لیکر کچھ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ماضی میں مالیگاؤں شہر میں بلا وجہ کورونا مریضوں کی تعداد بڑھا کر مالیگاؤں کو بدنام کرنے کی مکمل کوشش اور سازش کی گئی۔ اب جبکہ سرکاری انتظامیہ اتنے سارے مریضوں کے علاج و معالجے کے اخراجات اٹھانے سے قاصر ہے ایسے میں مقامی انتظامیہ نے اچانک مریضوں کی تعداد کو رفع دفع کرکے شہر میں صرف 63 مریضوں کو ہی ایکٹیو بتایا ہے۔ وہیں مالیگاؤں شہر کے لئے بیشمار کام کا جذبہ لیکر کر آنے والے آفیسر ترمبک کاسار کو بھی اچانک کورونا ہو جانا یہ بھی شہر میں چرچا کا باعث ہے۔ وہیں ریاستی وزیر راجیش ٹوپے کے مسلسل دورے کے بعد اچانک مریضوں کی تعداد میں کمی اور صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد میں اضافے کو لیکر بھی شہر میں شک و شبہات کا ماحول ہے۔ بیشتر افراد یہ کہہ رہے ہیں کہ کورونا سے اموات کی تعداد کم ہوئی کورونا کے بیشتر مریض اب بھی اپنے گھروں میں آسانی سے علاج کر رہے ہیں گویا مقامی انتظامیہ نے کورونا کا واویلا کھڑا کرکے مالیگاؤں کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس بابت بھی شہریان کو دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ بہر حال خوشی کی بات ہے کہ کورونا مریضوں کی تعداد شہر میں کم ہوئی اور صحتیاب ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہوئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہر میں صرف 63 افراد کا ہی کورونا سے متعلق سرکاری علاج و معالجہ جاری ہے۔ ویسے مریض کم ہو جانے سے کچھ سیاسی ٹھیکیداروں کو بھی فرق پڑے گا ایسی عوام میں چرچا ہے۔



 


Related Articles

Back to top button
Don`t copy text!
Close