وبائی دور میں ڈاکٹرس کے لئے انمول تحفہ

شہر مالیگاؤں میں ایسے جواہر و ماہ درخنشدہ  موجود ہیں جو اپنی روشنی سے مالیگاؤں کا نام روشن کئے ہوئے ہیں. انہی ناموں میں ایک نام بائیو لوجسٹ طوبٰی مومن بھی ہے. طوبٰی مومن کا تعلق مالیگاؤں سے ہے لیکن موصوفہ نے اپنی تعلیم پونہ سے مکمل کی اور فی الحال نیشنل ایڈز ایسرچ انسٹی ٹیوٹ پونہ میں اسسٹنٹ ریسرچر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں. حال ہی میں موصوفہ نے بایو سیفٹی پیشنٹ شیلڈ  تیار کی.یہ شیلڈ دانت کے ان  ڈاکٹرس کے لئے تیار کی گئی ہے جو اس وبائی دور میں بھی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں. اس حفاظتی لباس کو ایک ڈنٹسٹ یعنی دانتوں کے ڈاکٹر،ڈاکٹر عثمان شیخ نے تیار کیا ہے۔ جس میں  طوبی مومن نے گرانقدر معاونت کی ہے
ڈاکٹر عثمان شیخ بھیونڈی (ممبئی ) شہر کے ساکن ہیں – انہوں نے اپنی تعلیم شہر پونہ سے مکمل کی ہے – فی الحال ان وبائی صورتحال کے دوران وہ اپنے وطن بھیونڈی میں مقیم ہیں – جیسا کہ ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں کہ  ریڈ زون میں ایمر جنسی حالات  میں دانتوں کے علاج کو اجازت حاصل ہے- آرینج اور گرین زون میں دانتوں کی طبی خدمات کی اجازت ہے مگر سرجری یا آپریشن انتہائی ناگزیر حالات کی بنیاد پر ہی کئے جاسکتے ہیں – اسی قسم کے قوانین و ہدایات ایک ڈنٹسٹ کیلئے عالمی سطح پر بھی دی گئی ہیں – اسی وجہ سے کرونا وائرس کی اس وبا کے دوران پوری دنیا کے مریض دانتوں کی سرجری و دیگر علاج و معالجہ سے محروم ہیں – آج صورتحال یہ ہے کہ  دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس  مریضوں کے فون کال کا تانتا بندھا ہوا ہے .مریض بہت زیادہ تکلیف میں ہونے کے باوجود بھی علاج سے محروم ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹرس کے پاس سہولیات نہیں ہیں- چنانچہ ایسے مذموم ماحول کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر عثمان نے یہ فیصلہ کیا کہ کوئی ایسا حفاظتی لبادہ تیار کیا جائے کہ دانتوں کے ڈاکٹرس اپنے شفا خانوں کو کھولیں اور باآسانی وبلا خوف و خطر اپنے مریضوں کا علاج کرسکیں-
اس لباس کی تیاری کیلئے ڈاکٹر عثمان نے سب سے پہلے خود اپنی ذاتی کاوشوں سے 3-ڈی ڈیزائنگ کوسیکھا اور پھر اپنے تخیلات کو عملی جامہ پہنانے کی تگ و دو میں لگ گئے – لگاتار دن رات محنت کرتے رہے ، کئی راتیں جاگ جاگ کر اسی کام میں گزاردیں اور اس انتھک محنت و مسلسل جدوجہد کے بعد بالآخر ایک بایو سیفٹی باکس   بنانے میں کامیاب ہوۓ جسے ڈینٹل چیئر   یعنی مریض کا معائنہ کرنے والی کرسی پر فٹ کیا جائے گا۔ اس سیفٹی باکس کی وجہ سے ڈاکٹر کو ہر طرح کے مریض کا علاج کرنے میں آسانی ہوگی یہاں تک کہ نہایت نازک حالت کے مریض کا علاج بھی باآسانی ممکن ہوگا – اس سیفٹی باکس کی تیاری کے دوران انہوں نے پہلے یہ سوچا کہ کس طرح خود کو مریض سے ایک مناسب طرز پر علاحدہ کیا جائے یعنی مناسب دوری بنائی جائے تاکہ علاج بھی ممکن ہو اور ڈاکٹر کو کسی قسم کا خدشہ نہ ہو مگر بعد میں انھیں خیال آیا کہ کیوں نہ کچھ ایسا بنایا جائے کہ جس سے مریض کو علاحدہ کیا جائے ، اسے کسی ایسے لبادہ یا باکس میں رکھیں کہ ڈاکٹر کو کسی قسم کا بیماری لگنے کا اندیش نہ ہو اور مریض کا علاج بھی ممکن ہو- علاوہ ازیں ہر مریض کے بعد پورے شفاخانے یا دواخانے میں بار بار جراثیم کش ادویات کے چھڑکاؤ کی بھی ضرورت نہ ہو – جیسا کہ ہر ڈاکٹر کو ہدایت دی گئی ہے کہ ہر مریض کے جانے کے بعد جراثیم کش دواؤں کا چھڑکاؤ لازماً کیا جائے۔
ایک ایئرسول بنانے میں دانتوں کے علاج کیلئے مستعمل آلات کا استعمال کیا جاتا ہے جیسے الٹراسونک اسکیلر  ڈینٹل ہینڈ پیس، تھری وے سرینجس (تھری وے سرنجیس)  اور دیگر تیز رفتار آلے یہ ایئروسول ہوا میں معلق ہوتے ہیں،  یہ ائیروسول کزی بھی ڈاکٹر اور دیگر عملہ کو ممکنہ خطرات سے بچانے میں ناکام‫بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ ایسے جرثومے جو وزن میں 50 مائکرو یونٹ یا اس سے بڑے ہیں وہ تو فوراً زمین پر گر جائیں گے مگر جو چھوٹے چھوٹے اور وزن میں  ہلکے  جو عموماً 0.5 مائکرو یونٹ سے لے کر 10 مائکرو یونٹ کے ہوتے ہیں وہ فضا میں بہت لمبے عرصے تک قائم اور معلق رہتے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر بیماریاں پیدا کرسکتے ہیں – ایس اے آر ایس کو وی 2 ہوا میں کئی گھنٹوں تک اور کسی بھی چیز کی سطح پر کئی دنوں  تک زندہ رہتے ہیں – اور ایئروسول کے ذریعے کسی بھی جسم میں یہ باآسانی داخل ہوسکتے ہیں – ایئروسول زرات کی درجہ بندی انکی جسامت کی بنیاد پر کی گئی ہے – بڑے زرات کی جسامت 2.5 سے لے کر 10 مائکرون تک ہوتی ہے البتہ چھوٹے زرات 2.5 مائکرون سے چھوٹے ہوتے ہیں – نہایت مہین زرات کی جسامت 0.1 مائکرون سے بھی کم ہوتی ہے – ناک عموما 10 مائکرون یا اس سے بڑے زرات کو ہی جسم میں داخل ہونے سے روک پاتی ہے – 10 مائکرون سے چھوٹے زرات سانس کی نلی اور دیگر اعضاء تنفس میں داخل ہوتے ہیں – اگر جسامت 2.5 مائکرون سے کم ہوتی ہے تو یہ زرات الویولی یعنی پھیپھڑوں کے ہوا جمع کرنے والے تھیلی نما حصوں میں پہنچ جاتے ہیں – اسکے علاوہ اگر نہایت مہین زرات جیسے کووڈ-19 وائرس باآسانی پھیپھڑوں سے خون میں داخل ہوکر مختلف اعضاء جیسے دل ، دماغ وغیرہ کو نشانہ بناتے ہیں – مسئلہ اس وقت سنگین ہوجاتا ہے جب یہ جراثیم کھانسی ، چھینک یا دانتوں کے علاج کے دوران ہوا میں شامل ہوتے ہیں – یہ جراثیم تقریبا 20 فیٹ تک سفر کرتے ہیں اور نتیجتاً ثانوی طرز کا مرض پیدا کرتے ہیں یعنی ایک مریض سے کسی صحت مند کے جسم میں داخل ہوکر بیماری پیدا کرتے ہیں – لہذا ڈاکٹرس اور شفا خانہ کی سطح کو متاثر کرتے ہیں – 
یہ سیفٹی  آلہ ان جملہ ضروری اشیاء سےآراستہ ہے جن کی ایک ڈنٹسٹ کو ضرورت ہوتی ہے، یہ باتیں ایک ڈنٹسٹ ہی سمجھ سکتا ہے کہ اسے ایک مریض کے علاج کے دوران کن مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔  یہ آلہ ایک مکمل حفاظتی ڈھال ہے – یہ تمام سمتوں میں حرکت کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایک  ڈنٹسٹکو نہایت صاف اور محفوظ ماحول مہیا کرتا ہے تاکہ ایک ڈنٹسٹ باآسانی و بلاخوف و خطر پر اثر و صحیح علاج کرسکے – علاوہ ازیں جتنے لمبے وقت تک چاہے اسے کوئی بھی خطرہ نہیں ہوتا ‫- 
ڈاکٹر عثمان کہتے ہیں کہ طویل دماغی جنگ کے بعد آخرکار وہ اس حفاظتی آلہ کا ایک ابتدائی خاکہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں – اس ایجاد کا نام باکس فار امپرونگ اینڈ نیوٹرالائزنگ ایئروسول  رکھا گیا ہے 
اب میں مستقبل میں اس انمول آلے کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرنے کی جانب پیش رفت کر رہا ہوں کیونکہ آج دنیا کا ہر ڈینٹسٹ وبا کووڈ-19 کے باعث نامساعد حالات سے دوچار ہے – میں منتظر ہوں کسی ایسی کمپنی کا جو اس آلہ کو بڑے پیمانے پر تیار کرنے اور ہر ہر ڈینٹسٹ تک پہنچانے میں دلچسپی رکھتی ہو اور اس نوآموز ایجاد کے استعمال سے ہر ڈینٹسٹ اس وبائی صورتحال میں  ایک محفوظ ماحول میں مریضوں کاعلاج بھی کرے ساتھ ہی ساتھ خوشگوار زندگی سے بھی مستفید ہو۔ کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کی معلومات و دلچسپی کیلئے اس حفاظتی آلہ کی جملہ تفصیلات پیش کی جارہی ہیں۔
بی آئے این اے:۔

یہ آلہ ڈنٹسٹ ایک مکمل کارگر ڈھال ہے جو ایک ڈنٹسٹ کو نہ صرف مکمل حفاظت فراہم کرتا ہے بلکہ اسے علاج میں مستعمل جملہ آلات بھی فراہم کرتا ہے تاکہ وہ بہتر و احسن طریقے پر اپنے کام کو بحسن خوبی انجام دے سکے۔  ڈاکٹر عثمان کے مطابق اب وہ  آنکھوں کے ڈاکٹروں کیلئے آلہ بنانے پر کام کررہے ہیں کیونکہ وہ بھی نہایت ناگفتہ بہہ حالات سے نبرد آزما ہیں۔


Related Articles

Back to top button
Don`t copy text!
Close