بڑی خبر : عصری علوم کی تعلیم کیلئے اب مدارس کھول رہے ہیں اپنے دروازے ، جمعیت علماء ہند نے اٹھایا یہ بڑا قدم

اترپردیش کے 100 سے زائد مدرسوں نے جدید تعلیم کے لئے اپنے دروازے کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔ دراصل جمعیت علماء ہند محمود مدنی گروپ نے جمعیت اوپن اسکول پروجیکٹ متعارف کرایا ہے ، جس کے ذریعہ مدرسوں کے طلبہ کو دسویں جماعت تک تعلیم دی جائے گی ۔ آج اس پروجیکٹ کو جمعیت علماء ہند محمود مدنی گروپ کے ذریعہ دہلی میں پورے طریقے سے لانچ کیا گیا ۔ جمعیت علماء ہند کے دفتر میں  مغربی اتر پردیش کے 100 مدرسوں کے پرنسپل اور اساتذہ کو لانچ تقریب میں بلایا گیا ۔ پروگرام سے منسلک افراد کے ذریعہ 10 اضلاع سے مدرسہ کے پرنسپل اور اساتذہ کو پروجیکٹ سے متعارف کرانے کے لئے بلایا گیا ۔


پروگرام کے دوران بتایا گیا کہ وہ اپنے مدرسوں کے 20 طلبہ کو دسویں کلاس کی تعلیم کس طرح دلاسکتے ہیں ۔ جمعیت کا ارادہ ہے کہ ہر بچے کے لئے سالانہ 10000 اسکالرشپ دی جائے ۔ اس موقع پر جمعیت کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے پروجیکٹ کے بارے میں بتایا کہ اس پروجیکٹ کے تحت ہر مدرسے  میں جمیعت علماء ہند کے ذریعے ٹیچر فراہم کرایا جائے گا ۔ ضلعی کوآرڈینیٹر بھی بنائے گئے ہیں ۔ فی الوقت 100 مدرسوں کے 2000 طلبہ کو اس سال دسویں جماعت کا امتحان دلانے کا نشانہ رکھا گیا ہے جب کہ آنے والے پانچ سالوں میں 300 سے زائد اضلاع اور پچاس ہزار طلبہ کو پروجیکٹ کے تحت دسویں جماعت تک تعلیم دلانے کا نشانہ ہے ۔ نشانہ حاصل کرنے کے لئے اساتذہ کی ٹریننگ کرائی جارہی ہے اور اس کے لیے انہیں مہاراشٹر کے پونے شہر بھیجا جا رہاہے۔


جمیعت کے سیکریٹری نیاز احمد فاروقی نے بتایا کہ اس پروجیکٹ کے تحت سب سے بڑی رکاوٹ اساتذہ کو لے کر تھی ، جس کے لیے جمیعت علما ہند نے اساتذہ فراہم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہر طالب علم کو 10 ہزار روپے سالانہ اسکالرشپ دی جائے گی ، جس کے ذریعہ سے وہ  این آئی او ایس کی فیس اور دیگر اخراجات پورے کئے جائیں گے ۔ این آئی او ایس کے ذریعہ سے مدرسوں میں عصری علوم متعارف کرانے کا فائدہ یہ ہے کہ این آئی او ایس میں ایک بار اندراج پانچ سالوں کے لئے کافی ہوتا ہے ۔

سال میں دو بار امتحان ہوتے ہیں ہیں کسی بھی طالب علم کو ایک مضمون پاس کرنے کے لئے 9 بار امتحان میں بیٹھنے کا موقع ملتا ہے ۔ انگریزی ، ہندی اور اردو میڈیم میں سے کسی کو بھی اختیار کیا جاسکتا ہے ۔ این آئی او ایس  کے ساتھ اس پروجیکٹ کا براہ راست کوئی مفاہمت نامہ نہیں ہے ، لیکن این آئی او ایس اس معاملے میں مدد فراہم کررہا ہے ۔خیال رہے کہ جمعیت علمائے ہند اور دارالعلوم دیوبند کو قدامت پسند فکر کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ مدرسے اپنے کیمپس میں جدید تعلیم کی مخالفت کرتے رہے ہیں ، لیکن بدلتے تعلیم حالات اور سوچ کے درمیان مسلم معاشرے میں جمعیت کا منصوبہ مثبت تبدیلیکا اشارہ ہے ۔


Related Articles

Back to top button
Don`t copy text!
Close