مالیگاوں : پولس محکمہ اور ہائے وے اتھارٹی کے افسران کے ساتھ اس اہم میٹنگ میں یہ ہوا تھا فیصلہ ، لیکن ۔۔۔

مالیگاوں (نامہ نگار) نیشنل ہائی وے نمبر 3اگرہ روڈ۔ ، مالیگاوں بائے پاس پر آئے دن حادثات کی خبریں موصول ہورہی تھی ، 15 سال قبل عوامی نمایندے کی نا اہلی کی وجہ سے جو ہمارے شہر کو جو ہائے وے ملا ہے ، اس میں نہ تو کسی قسم کا سروس روڈ ، نہ ہی اسپیڈ بریکر ہیں اور نہ ہیں انسٹرکشنس بورڈ آویزاں کئے گئے ہیں ۔ اس معاملے میں مالیگاوں شہر کو کسطرح نظر انداز کیا گیا ، سوما کمپنی جس نے اس روڈ کو تعمیر کیا ہے ، جبکہ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ ہائے وے سے دیہاتوں میں داخلے کیلئے سروس روڈ دی جاتی ہے، جس پر کم اسپیڈ میں یا ہیوی وہیکلزنہیں جاتی ، جسکی وجہ سے حادثات کم ہوتے ہیں ۔



آپ کو بتادیں کہ ایک پولس ریکارڈ کے مطابق اس روڈ پر 400 سے زائد افراد کی موت ہوئی ہے اور کم از کم 1200 افراد حادثے کا شکار ہوکر شدید زخمی ہوئے ہیں ، ان میں کتنے ایسے ہیں جو معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں ، ہم نے اس مسئلے کو ختم کرنے لئے کئی مرتبہ ہائی وے اتھارٹی اور پولس محکمہ کو مکتوب بھی روانہ کیا تھا ، جس پر اب تک کسی طرح کا عمل درآمد نہیں کیا جاسکا ہے ، اس طرح کا اظہار خیال مالیگاوں شہر کے موجودہ رکن اسمبلی ایم ایل اے مفتی محمد اسماعیل قاسمی نے بروز سنیچر کو دوپہر میں سٹی پولس اسٹیشن میں واقع سنسواد ہال میں ہائی وے اتھارٹی آفیسران اور محکمہ پولس کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں کیا ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ اس میٹنگ سے قبل ایم ایل اے موصوف نے آفیسران کے ساتھ منگسے پھاٹہ سے چالیس گاوں تک دوری بھی کیا تھا ۔ اس میٹنگ میں۔ اپنے خطاب میں موصوف نے کہا کہ ہمارے شہر کو حکومت نے نظر انداز کیا ہے ، اقلیتی شہر ہونے کی وجہ سے یہاں کے ہائے وے کو تمام تر سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے ۔

اس میٹنگ میں ایم ایل اے مفتی محمد اسماعیل قاسمی نے تمام تر پہلوؤں پر کافی دیر تک تبصرہ کیا اور ہائی وے اتھارٹی سے جواب بھی طلب کیا ہے ، مزید موصوف نے کہا کہ اگر ہائی وے اتھارٹی اپنے کام میں تساہلی برتنے لگے گی تب ہم سخت اقدامات اٹھا سکتے ہیں ، وہیں موصوف نے ہائی وے کو لیکر پولس محکمہ سے رپورٹ طلب کی ہے ۔ اس میٹنگ میں ایڈیشنل ایس پی چندر کانت کھنڈوی ، پائے وے آفیسران ، اورتمام پولس اسٹیشوں کے پی آئے بھی موجود تھے ۔


Related Articles

Back to top button
Don`t copy text!
Close